Thursday, 21 April 2016

کیا قرآن میں کافروں کو قتل کرنے کا حکم دیا گیا ہے؟

بھائی جی قرآن میں میں نے پڑھا کہ جب شکار ورجت مہینہ ختم ہو جائے تو کافروں کو قتل کرو.... 
Hindu 
Sitamarhi 
Gharib Rath Express  18-4-2016

بہت اچھا سوال پوچھا ہے بھائی آپ نے، 
خیر آپ نے بتایا کہ آپ نے خود قرآن پڑھا ہے،  بڑی اچھی بات ہے آپ اسی طرح قرآن پڑھتے رہیں البتہ صرف ہندی انواد،  ترجمہ  سے قرآن کیا کہنا چاہ رہا ہے،  یہ سمجھنا اتنا آسان نہیں ہے ، ........ 
آپ کی ساتھ والی سیٹ پر مسلم بھائی بیٹھے ہیں،  ذرا آپ ان سے پوچھیے کہ کیا اسلام میں ایسا کوئی مہینہ ہے ،؟... 
  نہیں ایسا کوئی مہینہ نہیں ہے،
   دوسری بات آپ ان سے یہ بھی پوچھیے کہ قرآن پڑھنا جانتے ہیں اور ترجمہ بھی پڑھا ہے لیکن کیا ان کو اسلام صرف ترجمہ پڑھ کر اس کی اجازت دیتا ہے کہ وہ قرآن کا مطلب بتائیں ،  یا اسلامی قانون کی وضاحت کریں،؟ 
نہیں  ان کو اس کی اجازت نہیں ہے.... 
آخر ایسا کیوں ہے؟ .... 

تو اصل بات یہ ہے کہ قرآن کے جملے یا کسی بھی کتاب کے جملوں کو سمجھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ،  اس بات پر دھیان دینا ضروری ہے کہ1* وہ بات کب کہی گئی ہے،؟ 2* کہاں کہی گئی ہے،؟ 3* کن لوگوں سے کہی گئی ہے، ؟ 4*کیوں کہی گئی ہے؟  5*کس نے کہی ہے؟ ......6*....7*.....
مثال کے طور پر سمجیے 
ایک لفظ ہے " اچھا  "

کبھی غصے سے 
کبھی خوشی سے 
کبھی تعجب سے 
کبھی ٹالنے کے لیے 
کبھی مذاق اڑانے کے لیے 
استعمال کیا جاتا ہے،  اور الگ الگ حالات اور لوگوں سے کہا جاتا ہے اور الگ الگ معانی سمجھے جاتے ہیں،  
مثال کے طور پر ہندوستان نے، پاکستان بنگلہ دیش جنگ کے موقع پر بنگلہ دیشیوں کو ہندوستان میں آنے کی اجازت دی تھی،  اس وقت اگر کوئی بنگلہ دیشی اُس وقت والی اجازت کا حوالہ دے کر ہندوستان میں آنا چاہے تو کیا آپ اسے صحیح کہیں گے، ؟  
نہیں نا!! 
کیوں؟ ؟؟ 
اس لیے کہ اجازت خاص وقت کے لیے تھی،  جنگ کے وقت کے لیے تھی ، 
اسی طرح آپ ہند نیپال بارڈر پر رہتے ہیں، نیپال ہندوستان سے الگ ایک مستقل ملک ہے جو ہندوستان کے پڑوس میں ہے،  آپ بغیر ویزا پاسپورٹ کے نیپال میں داخل ہوتے ہیں ، نہ ہندوستانی فوج اور نہ ہی نیپالی فوج آپ کو روک ٹوک کرتی ہے،  
اب آپ اسی طرح بغیر ویزا پاسپورٹ کے اگر پاکستان جانا چاہیں تو.... کیا ہندوستانی فوج آپ کو جانے دے گی، آپ چاہے جتنا نیپال کا حوالہ دیتے رہیں،  لیکن آپ کو جیل کی ہوا کھانا پڑسکتی ہے،  
کیوں؟؟؟ 
اس لیے کہ پڑوسی ملک میں داخل ہونا بلا ویزا و پاسپورٹ نیپال کے ساتھ خاص ہے 
اس طرح کی انگنت مثالیں آپ کو مل جائیں گی...... 
تو آپ نے سمجھ لیا گیا ہوگا کہ وہ جو قتل کرنے بات قرآن میں کہی گئی ہے،  خاص لوگوں،  خاص زمانے،  خاص جگہ.... خاص..... خاص... کے لیے کہی گئی ہے،  
خاص زمانے کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں تو اپنے مسلمان ساتھی یا کسی بھی مسلمان سے معلوم کریں کہ کیا اسلام میں ایسا کوئی مہینہ ہے جس میں شکار کرنے سے روکا گیا ہے،؟ 
کیا بتایا انہوں نے کہ نہیں ایسا کوئی مہینہ نہیں ہے،
  تو یہ بات سمجھیے کہ قتل کرنے کا حکم اس زمانے کا ہے جب ایسا کوئی مہینہ ہوتا تھا،  اب ایسا کوئی مہینہ نہیں تو ایسا کوئی حکم بھی نہیں 
آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ کبھی تو ایسا تھا،  جی ہاں
یہ اس وقت کہا گیا تھا جب غیر مسلموں نے جنگ بندی کا معاہدہ توڑ کر مسلمانوں کو جنگ کرنے پر مجبور کر دیا اور جنگ ہوئی اور مسلمانوں نے جنگ جیت لی تو رحم دلی کے طور پر غیر مسلموں کو کچھ وقت کی مہلت دی کہ تم ہمارے علاقے کو اتنی تاریخ سے پہلے پہلے خالی کردو بعد میں ہماری ذمہ داری نہیں ہوگی، 
بھلا بتلائیں مسلمان چاہتے تو اسی وقت سب کو قتل کر سکتے تھے؛اس لیے کہ وہ فاتح تھے ؛  اور غیر مسلموں نے معاہدہ بھی توڑا تھا  اس لیے سزا کے طور پر سخت سے سخت سزا دے سکتے تھے لیکن اسلام امن و سلامتی کا نام ہے اس لیے مفتوح و مغلوب لوگوں کو بھی اس نے مہلت دی
اور ہاں قرآن میں جہاں آپ نے قتل کا حکم پڑھا ہے اسی کے آس پاس سختی سے یہ حکم بھی دیا گیا ہے جن لوگوں نے معاہدہ کی خلاف ورزی نہیں کی ہے تم ان کے ساتھ اچھا معاملہ کرو،  شاید آپ دھیان نہیں دے سکے خیر کوئی بات نہیں پھر سے پڑھ لیجیے گا   
میرے خیال سے آپ پورا مطلب سمجھ گئے ہوں گے  
میں آپ سے آخر میں یہی کہوں گا کہ آپ قرآن پڑھتے رہیں لیکن صرف ترجمہ نہ پڑھیں،  بلکہ اس کی تفسیر بھی ساتھ میں پڑھیں،  اور کچھ سمجھ میں نہ آئے تو کسی ٹھیک ٹھاک سے مولانا سے پوچھ لیں

تنویر خالد قاسمی

No comments:

Post a Comment